ابو کاشان کا بلاگ

میری باتیں

Saturday, August 28, 2010

دلِ بے چین

آج نجانے دل کیوں بے چین ہے۔
تمہی کو یاد کرتا ہے۔
تمہی سے بات کرتا ہے۔
تمہی کو پانا چاہتا ہے۔
مگر اب یہ نہیں ممکن۔
ہاں اب یہ نہیں ممکن۔

6 تبصرہ جات:

Anonymous احمد عرفان شفقت نے کہا:

آپ ہر سال اگست میں ہی اپنے بلاگ پر طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ایسا کیوں؟ مطلب اگست میں کوئی خاص بات ہے؟
باقی اس چھوٹی سی نظم نے دل موہ لیا ہے۔ میرے علاوہ اور بھی بہت سے ہوں گے جن کو اپنی کیفیت کی بازگشت سنائی دی ہو گی اس میں۔

August 30, 2010 at 2:44 AM

 
Blogger ابو کاشان نے کہا:

بہت شکریہ تشریف لانے کا۔
آگسٹ میں ایسی کوئی بات نہیں سوائے ماہِ آزادی کے۔
نظم کی پسندیدگی کا شکریہ۔ بس یونہی دل کی بےچینی لکھ دی۔

September 22, 2010 at 2:18 AM

 
Anonymous عبدالقدوس نے کہا:

kio ab kia ho gaya?

August 14, 2011 at 9:32 PM

 
Blogger TariqRaheel نے کہا:

میں نے چاہا اس عید پر
اک ایسا تحفہ تیری نظر کروں
اک ایسی دعا تیرے لئے مانگوں
جو آج تک کسی نے کسی کے لئے نہ مانگی ہو
جس دعا کو سوچ کر ہی
دل خوشی سے بھر جائے
جسے تو کبھی بھولا نہ سکے
کہ کسی اپنے نےیہ دعا کی تھی
کہ آنے والے دنوں میں
غم تیری زندگی میں کبھی نہ آئے
تیرا دامن خوشیوں سے
ہمیشہ بھرا رہے
پر چیز مانگنے سے پہلے
تیری جھولی میں ہو
ہر دل میں تیرے لیے پیار ہو
ہر آنکھ میں تیرے لیے احترام ہو
ہر کوئی بانہیں پھیلائے تجھے
اپنے پاس بلاتا ہو
ہر کوئی تجھے اپنانا چاہتا ہو
تیری عید واقعی عید ہوجائے
کیوں کہ کسی اپنے کی دعا تمہارے ساتھ ہے

August 30, 2011 at 9:51 PM

 
Blogger ابو کاشان نے کہا:

شکریہ طارق راحیل بھائی

September 12, 2011 at 2:10 AM

 
Blogger ابو کاشان نے کہا:

عبدالقدوس بھائی کیا پوچھتے ہو۔ کیا نہیں ہوا یہ پوچھو۔

September 12, 2011 at 2:12 AM

 

Post a Comment

<< صفحہ اول