Tuesday, August 19, 2008

عمرانیات ۔ قسط 1

السلام و علیکم!
جب بہت دیر تک کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا لکھوں تو خیال آیا کہ انسان کو اپنی ذات سےہی شروع کرنا چاہیے، کچھ اپنے بارے میں بتانا چاہیے کیوں کہ لوگ اپنے بارے میں تو کچھ نہ کچھ جانتے ہی ہیں پر دوسروں کے بارے میں جاننے میں ذیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔
انٹرنیٹ کی دنیا میں بہت تھوڑے لوگ یہ بات جانتے ہوں گے کہ مجھے کس نام سے پکارا جاتا ہے۔ جو نہیں جانتے وہ جان لیں کہ متصدقہ سرٹیفیکیٹس میں اسمِ شریف عمران ضیاء درج ہے۔جب اس شہر میں آنکھ کھولی تو یہ روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا۔اب اکثر تاریکی میں ڈوبا رہتا ہے۔ ویسے مجھے اِس جہاںِ فانی میں آئے ہوئے کافی زمانے بیت چکے ہیں مگر لگتا ہے کہ ابھی تو آئے تھے اور اتنا وقت گزر گیا۔ خیر سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوں اور صاحبِ اولاد بھی۔ ایک پرائیویٹ فرم میں اچھی پوسٹ پر ہوں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا بہت کرم ہے۔
تو دوستوں اب تک کے لیئے اتنا ہی۔یار باقی، صحبت برہم۔اللہ حافظ

4 comments:

میرا پاکستان said...

عمرانیات کی باقی قسطوں کا بیچانی سے انتظار رہے گا۔

ابو کاشان said...

شکریہ میرا پاکستان
میں نے تو ہوں ہی لکھنا شروع کر دیا سمجھا تھا کسی نے دیکھنا تو ہے نہیں مگر آپ کی تشریف آوری اور دلجسپی کا شکریہ

میرا پاکستان said...

یہ مت سوچئے کہ لوگ پڑھتے نہیں ہیں۔ ہم پڑھتے ضرور ہیں مگر تبصرے کم کرتے ہیں۔ اسلیے مایوس نہ ہوں اور لکھنا جاری رکھیے۔

ابو کاشان said...

شکریہ،
میں مایوس تو بالکل نہیں ہوں۔ کم سے کم میں خود تو دس بار پڑھتا ہوں نا۔